3 اشعار

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

Na thaa kuchh to Khudaa thaa, kuchh na hota to Khudaa hota

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا

«نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا» مرزا غالب کا کلام ہے، جسے انتظار حسین نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)» میں 2 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 28 سیکنڈ ہے۔

نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتاڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا

ہوا جب غم سے یوں بے حس تو غم کیا سر کے کٹنے کانہ ہوتا گر جدا تن سے تو زانو پر دھرا ہوتا

ہوئی مدت کہ غالبؔ مر گیا پر یاد آتا ہےوہ ہر اک بات پر کہنا کہ یوں ہوتا تو کیا ہوتا

— مرزا غالب

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں