مال اٹھا اور دکان خالی کر
کلام: نصیر احمد ناصر
مال اٹھا اور دکان خالی کریہ زمان و مکان خالی کر
جا کہیں اور کر شکار اپناچھوڑ جنگل مچان خالی کر
درد کے پیلے گلابوں کی تھکن باقی رہی نصیر احمد ناصر
مہمان شاعر: نصیر احمد ناصر
مال اٹھا اور دکان خالی کریہ زمان و مکان خالی کر
جا کہیں اور کر شکار اپناچھوڑ جنگل مچان خالی کر
جو نہیں اس جہاں کو روتے ہیںحاصل رائیگاں کو روتے ہیں
دکھ زمیں کا تو بانٹ سکتے نہیںاور زمان و مکاں کو روتے ہیں