ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم
کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05
«ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔
ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہمجو شامِ غم میں لبوں پر لرز گپ کئی بار سبھی کے بھاگے ہوئے تھے اُس ایک نام سے ہم
شب خار تھی ، سے تھی ، بہار تھی ، لیکن یٹ کے سو رہے عکس فروغ جام سے ہمالجھ رہیں گے کیسی اور بحر ہے تہ میں نکل بھی جائیں اگر سیل صبح و شام سے ہم