5 اشعار

ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم

Hazaar rabt baRhaayein khayal-e-khaam se hum nikal na paayen ge tanhaaiyon ke daam se hum

ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم

«ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہم» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 13 سیکنڈ ہے۔

ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہمجو شامِ غم میں لبوں پر لرز گپ کئی بار سبھی کے بھاگے ہوئے تھے اُس ایک نام سے ہم

شب خار تھی ، سے تھی ، بہار تھی ، لیکن یٹ کے سو رہے عکس فروغ جام سے ہمالجھ رہیں گے کیسی اور بحر ہے تہ میں نکل بھی جائیں اگر سیل صبح و شام سے ہم

یہ اور بات کہ صحبت ہی ہل گئی ایسی دگرنہ شہر میں آنے تھے اپنے کام سے ہمجو دوسروں کے لیے آبدار رکھتے تھے ہوئے ہیں قتل اُسی تیغ بے نیام سے ہم

رواں دواں رہی دُنیا مثال مور د مگس اُتر کے دیکھ نہ پائے فراز بام سے ہمہمارے زخم نہاں پر فسردہ ہو نہ کوئی ہیں پر بہار اسی نقش ناتمام سے ہم

ہمارے شعر ہیں پر نہ کھل سکیں شاید ڈرے ہوئے ہیں کچھ ایسے قبول عام سے ہم

— ظفراقبال

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں