ہزار ربط بڑھائیں خیال خام سے ہم نکل نہ پائیں گے تنہائیوں کے دام سے ہمجو شامِ غم میں لبوں پر لرز گپ کئی بار سبھی کے بھاگے ہوئے تھے اُس ایک نام سے ہم
شب خار تھی ، سے تھی ، بہار تھی ، لیکن یٹ کے سو رہے عکس فروغ جام سے ہمالجھ رہیں گے کیسی اور بحر ہے تہ میں نکل بھی جائیں اگر سیل صبح و شام سے ہم