مقرر · کو ہوسٹ

ثنا سوئٹ

@Sana____Sweet

126
پیش کردہ کلام
97
محفلوں میں شرکت
ثنا سوئٹ کی آواز میں

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

کلام: رند لکھنوی · محفل: لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی · 2026-04-26

«الفت نہ کروں گا اب کسی کی» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کی

حالت کہوں اپنی بے خودی کیدل دے کے سنو جو میرے جی کی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 تنہا Tanha ضیاء جالندھری نظم
  2. 02 کیفیت کیا تھی یہاں عالم غم سے پہلے Kaifiyat kya thi yahan aalam-e-gham se pahle اختر انصاری اکبر آبادی غزل
  3. 03 وہی ہوتا ہے جو محبوب کو منظور ہوتا ہے Wohi hota hai jo mahboob ko manzoor hota hai صفی اورنگ آبادی غزل
  4. 04 وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے Woh mujhe khaak se baahar nahin jaane dete خورشیدرضوی غزل
  5. 05 زخم دل بھی دکھا کے دیکھ لیا Zakhm-e-dil bhi dikha ke dekh liya عرش ملسیانی غزل
  6. 06 سر پہ رکھوں تو کبھی سُرما بناوں مٹی Sar pe rakhun to kabhi surma banaun mitti تنویر دانش
  7. 07 علاج درد دل تم سے مسیحا ہو نہیں سکتا Ilaj-e-dard-e-dil tum se maseeha ho nahin sakta مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  8. 08 پڑی ہے رات کوئی غم شناس بھی نہیں ہے PaDi hai raat koi gham shanaas bhi nahin hai اسماعیل راز