وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتے
کلام: خورشیدرضوی
وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتےدست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے
سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حبابزیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے
غرورِ زُہد سے رنجِ گُناہ بہتر تھا خورشید رضوی
مہمان شاعر: خورشیدرضوی
وہ مجھے خاک سے باہر نہیں جانے دیتےدست ساحل سے سمندر نہیں جانے دیتے
سطح پر آئے ہوئے بن کے کف و موج و حبابزیر دریا یہی گوہر نہیں جانے دیتے