13 اشعار

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

Ulfat na karunga ab kisi ki

الفت نہ کروں گا اب کسی کی

«الفت نہ کروں گا اب کسی کی» رند لکھنوی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «لے تو جائے گا خط شوق مگر رشک یہ ہے رند لکھنوی» میں 26 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

الفت نہ کروں گا اب کسی کیدشمن ہوا جس سے دوستی کی

حالت کہوں اپنی بے خودی کیدل دے کے سنو جو میرے جی کی

اول اول بھلائیاں کیںآخر آخر بہت بری کی

مصروف ہے سینہ کوبی میں دلآتی ہے صدا دھڑا دھڑی کی

الفت پہ تیری خاتمہ ہےاب لے لے قسم تو عاشقی کی

کرتے رہے اختراع آپھیتقلید نہ کی کبھی کسی کی

رونے پہ میرے ہنستے ہیں آپہنس لیجئے بات ہے ہنسی کی

کیوں کر نہ فریفتہ ہو انساںتن حور کا شکل ہے پری کی

شیریں دہنو نہیں ہے زیباتم باتیں کرو نہ پھیکی پھیکی

دیوانہ ہوا ہوں اک پری کاتقصیر یہ ہے تو واقعی کی

بے یار ہے دل کباب ساقیتکلیف نہ کر تو مے کشی کی

آنکھیں لڑیں تجھ سے میں ہوا قتلان ترکوں نے جنگ زرگری کی

کرنے دو بدی جو کرتے ہیں غیرسنتا نہیں رندؔ وہ کسی کی

— رند لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں