مقرر

یادرفتگان

@Yaad_e_Raftgaan

53
پیش کردہ کلام
56
محفلوں میں شرکت
یادرفتگان کی آواز میں

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

کلام: زہرا نگاہ · محفل: کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ · 2026-01-23

«اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگاکتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہااور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 یہ سانحہ بھی ہوا ہے تری خدائی میں Ye saanha bhi hua hai teri Khudai mein راکب مختار آواز میں دستیاب
  2. 02 نئے غمزے نئے انداز نظر آتے ہیں Naye ghamze naye andaaz nazar aate hain پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب
  3. 03 عرض الم بہ طرز تماشا بھی چاہیے Arz-e-alam ba tarz-e-tamasha bhi chahiye جواد شیخ آواز میں دستیاب
  4. 04 تو کیا یہ آخری خواہش ہے اچھا بھول جاؤں To kya yeh aakhri khwahish hai achha bhool jaaun جواد شیخ آواز میں دستیاب
  5. 05 کام آ سکیں نہ اپنی وفائیں تو کیا کریں Kaam aa sakein na apni wafayein to kya karein اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  6. 06 دل و دماغ کو رو لوں گا آہ کر لوں گا Dil-o-Dimagh Ko Ro Loon Ga Aah Kar Loon Ga اختر شیرانی آواز میں دستیاب
  7. 07 نگاہوں کے تقاضے چین سے مرنے نہیں دیتے Nigahon ke taqazay chain se marne nahin dete وسیم بریلوی آواز میں دستیاب
  8. 08 نہیں کہ اپنا زمانہ بھی تو نہیں آیا Nahin ke apna zamana bhi to nahin aaya وسیم بریلوی آواز میں دستیاب