5 اشعار

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

Apna har andaaz aankhon ko tar-o-taaza laga

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا

«اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا» زہرا نگاہ کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کہاں کے عشق و محبت کدھر کے ہجر ووصال زہرانگاہ» میں 23 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 39 سیکنڈ ہے۔

اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگاکتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا

سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہااور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا

ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھیسارے دن کا کام اس دن کس قدر ہلکا لگا

چال پر پھر سے نمایاں تھا دلآویزی کا زعمجس کو واپس آتے آتے کس قدر عرصہ لگا

میں تو اپنے آپ کو اس دن بہت اچھی لگیوہ جو تھک کر دیر سے آیا اسے کیسا لگا

— زہرا نگاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں