سپیکرز
یادرفتگان کا پیش کردہ کلام
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا
اپنا ہر انداز آنکھوں کو تر و تازہ لگا کتنے دن کے بعد مجھ کو آئینہ اچھا لگا سارہ آرائش کا ساماں میز پر سوتا رہا اور چہرہ جگمگاتا جاگتا ہنستا لگا ملگجے کپڑوں پہ اس دن کس غضب کی آب تھی سارے دن کا کام اس دن کس قدر ہلکا لگا چال پر پھر سے نمایاں تھا دلآویزی کا زعم جس کو واپس آتے آتے کس قدر عرصہ لگا میں تو اپنے آپ کو اس دن بہت اچھی لگی وہ جو تھک کر دیر سے آیا اسے کیسا لگا
صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی
صورت دل کشی رہی خواہش زندگی رہی داغ دل خراب سے رات میں روشنی رہی تیرے سبھی کلاہ پوش کوہ غرور سے گرے اپنی تو ترک سر کے بعد عشق میں برتری رہی ساتویں آسمان تک شعلۂ علم و عقل تھا پھر بھی زمین اہل دل کیسی ہری بھری رہی آپ ہوا ہے مندمل گل نے بہار کی نہیں شہرت دست چارہ گر زخم ہی ڈھونڈھتی رہی کہتے ہیں ہر ادب میں ہے ایک صدائے بازگشت میرؔ کے حسن شعر سے میری غزل سجی رہی