آزاد کی آواز میں
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے
کلام: قتیل شفائی · محفل: اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی) · 2025-11-28
«جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہےوہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے
دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پریہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے