7 اشعار

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے

Jo bhi ghuncha tere honton pe khula karta hai

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے

«جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہے» قتیل شفائی کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)» میں 28 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 54 سیکنڈ ہے۔

جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہےوہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے

دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پریہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے

میں تو بیٹھا ہوں دبائے ہوئے طوفانوں کوتو مرے دل کے دھڑکنے کا گلا کرتا ہے

رات یوں چاند کو دیکھا ہے ندی میں رقصاںجیسے جھومر ترے ماتھے پہ ہلا کرتا ہے

جب مری سیج پہ ہوتا ہے بہاروں کا نزولصرف اک پھول کواڑوں میں کھلا کرتا ہے

کون کافر تجھے الزام تغافل دے گاجو بھی کرتا ہے محبت سے گلا کرتا ہے

لوگ کہتے ہیں جسے نیل کنول وہ تو قتیلؔشب کو ان جھیل سی آنکھوں میں کھلا کرتا ہے

— قتیل شفائی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں