جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئے
کلام: قتیل شفائی
جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئےاپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خوشبو آئے
مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تکتے رہنارات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے
اس کو دفناو مرے ہاتھوں کی ریکھاوں میں (قتیل شفائی)
مہمان شاعر: قتیل شفائی
جب تصور میرا چُپکے سے تجھے چھُو آئےاپنی ہر سانس سے مجھ کو تیری خوشبو آئے
مشغلہ اب ہے میرا چاند کو تکتے رہنارات بھر چین نہ مجھ کو کسی پہلو آئے
جو بھی غنچہ ترے ہونٹوں پہ کھلا کرتا ہےوہ تری تنگئ داماں کا گلا کرتا ہے
دیر سے آج مرا سر ہے ترے زانو پریہ وہ رتبہ ہے جو شاہوں کو ملا کرتا ہے