آزاد کی آواز میں
کہو تو لوٹ جاتے ہیں
کلام: امجد اسلام امجد · محفل: یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض · 2025-12-15
«کہو تو لوٹ جاتے ہیں» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔
کہو تو لوٹ جاتے ہیں!ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی
ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئیابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی