18 اشعار

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

Kaho to lauṭ jaate haiñ!

کہو تو لوٹ جاتے ہیں

«کہو تو لوٹ جاتے ہیں» امجد اسلام امجد کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «یہ کیسی کسک سی باقی ہےپاوں میں وہ کانٹابھی نہیں فہمیدہ ریاض» میں 15 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

کہو تو لوٹ جاتے ہیں!ابھی تو بات لمحوں تک ہے، سالوں تک نہیں آئی

ابھی مسکانوں کی نوبت بھی، نالوں تک نہیں آئیابھی تو کوئی مجبوری، خیالوں تک نہیں آئی

ابھی تو گرد پیروں تک ہے، بالوں تک نہیں آئیکہو تو لوٹ جاتے ہیں

چلو اک فیصلہ کرنے، شجر کی اور جاتے ہیںابھی کاجل کی ڈوری۔ سرخ گالوں تک نہیں آئی

زباں دانتوں تلک ہے، زہر پیالوں تک نہیں آئیابھی تو مشک کستوری غزالوں تک نہیں آئی

ابھی روداد بے عنواںہمارے درمیاں ہے دنیا والوں تک نہیں آئی

کہو تو لوٹ جاتے ہیںابھی نزدیک ہیں گھر اور منزل دور ہے اپنی

مبادا نار ہو جائے یہ ہستی نور ہے اپنیکہو تو لوٹ جاتے ہیں

یہ رستہ پیار کا رستہ رسن کا دار کا رستہبہت دشوار ہے جاناں۔ ۔ ۔ ۔

کہ اس رستے کا ہر ذرہ بھی اک کہسار ہے جاناںکہو تو لوٹ جاتے ہیں

میرے بارے نہ کچھ سوچو مجھے طے کرنا آتا ہےرسن کا، دار کا رستہ

یہ آسیبوں بھرا رستہ، یہ اندھی غار کا رستہتمہارا نرم و نازک ہاتھ ہوگر میرے ہاتھوں میں

تو میں سمجھوں کہ جیسے دو جہاں ہیں میری مٹھی میںتمہارا قرب ہو تو، مشکلیں کافور ہو جائیں

یہ اندھے اور کالے راستے پر نور ہو جائیںتمہارے گیسووں کی چھاوں مل جائے

تو سورج سے الجھنا بات ہی کیا ہےاٹھا لو اپنا سایہ تو، میری اوقات ہی کیا ہے؟

میرے بارے نہ کچھ سوچو، تم اپنی بات بتلاوکہو !

تو چلتے رہتے ہیںکہو !!

تو لوٹ جاتے ہیں !!

— امجد اسلام امجد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں