آزاد کی آواز میں
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار
کلام: فرحت عباس شاہ · محفل: کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ) · 2025-12-09
«صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پاردیوار ہی دیوار ہے، دیوار کے اس پار
بیٹھا ہے کوئی گھات لگائے ہوئے مجھ پرخاموشی لگاتار ہے دیوار کے اس پار