صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار
کلام: فرحت عباس شاہ
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پاردیوار ہی دیوار ہے، دیوار کے اس پار
بیٹھا ہے کوئی گھات لگائے ہوئے مجھ پرخاموشی لگاتار ہے دیوار کے اس پار
کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)
مہمان شاعر: فرحت عباس شاہ
صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پاردیوار ہی دیوار ہے، دیوار کے اس پار
بیٹھا ہے کوئی گھات لگائے ہوئے مجھ پرخاموشی لگاتار ہے دیوار کے اس پار