12 اشعار

صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار

Sehra hai na bazaar hai deewar ke us paar

صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار

«صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پار» فرحت عباس شاہ کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کتنے چُپ چاپ سے لگتے ہیں شجر شام کے بعد (فرحت عباس شاہ صاحب کے ساتھ)» میں 9 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 29 سیکنڈ ہے۔

صحرا ہے نہ بازار ہے دیوار کے اُس پاردیوار ہی دیوار ہے، دیوار کے اس پار

بیٹھا ہے کوئی گھات لگائے ہوئے مجھ پرخاموشی لگاتار ہے دیوار کے اس پار

آتی ہیں کراہیں، کبھی آہیں، کبھی سسکیشاید کوئی بیمار ہے دیوار کے اس پار

اب صرف نظر آتی ہیں مجھ کو میری آنکھیںاب جھانکنا بے کار ہے، دیوار کے اس پار

کہتا ہے پرندے بڑے آزاد ہیں، لیکنزنجیر کی جھنکار ہے دیوار کے اس پار

دل بجنے کی، پہلو کو بدلنے کی ہے آوازکوئی تو آوازار ہے دیوار کے اس پار

تقسیم ہوا دل تو ادھر شہر خموشاںاور شہر عزادار ہے دیوار کے اس پار

یا کھیل کوئی اور خطرناک ہے جارییا کوئی مِرا یار ہے دیوار کے اس پار

یہ خوف شکنجے کی طرح مجھ کو ہے لاحقبستی کوئی خونخوار ہے دیوار کے اس پار

کوئی بھی نہیں ایسا جو مجرم نہیں میراہر شخص گناہگار ہے دیوار کے اس پار

پہلے مجھے دیوار کے اس پار اتارااب میرا طلبگار ہے دیوار کے اس پار

میں تنہا نکل پڑنے کو اٹھ بیٹھا ہوں فرحتلشکر کوئی تیار ہے دیوار کے اس پار

— فرحت عباس شاہ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں