مقرر

آزاد

@awazdil090

30
پیش کردہ کلام
34
محفلوں میں شرکت
آزاد کی آواز میں

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

کلام: اختر شمار · محفل: تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار · 2026-04-17

«اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں» اختر شمار کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں Poochhi taqseer to bole koi taqseer nahin مبارک عظیم آبادی
  2. 02 یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے Yaad hai shewa-e-ishq sitam iijaad mujhe کامل شطاری آواز میں دستیاب
  3. 03 صدمے گزرے ایذا گزری Sadme guzre eiza guzri رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 ایویں ہن کچھ بول نہ دیویں Aivin hun kujh bol na devin پنجابی شعرا
  5. 05 سزا Saza باقر مہدی آواز میں دستیاب
  6. 06 میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا Mere andar hi kahin aaya tha toofan mera شاہین عباس آواز میں دستیاب
  7. 07 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par راکب مختار آواز میں دستیاب
  8. 08 کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب