اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
کلام: اختر شمار
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار
مہمان شاعر: اختر شمار
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
وہ جس کا عکس لہو کو جگا دیا کرتامیں خواب خواب میں اس کو صدا دیا کرتا
قریب آتی جو تاریخ اس کے ملنے کیوہ اپنے وعدے کی مدت بڑھا دیا کرتا