6 اشعار

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

Us ke nazdeek gham tark-e-wafa kuch bhi nahin

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں

«اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں» اختر شمار کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «تو نے آنسو کبھی دیکھا ہے ستارا کرکےاختر شمار» میں 17 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 51 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں

اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیںاس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں

چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھیاس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں

کل بچھڑنا ہے تو پھر عہد وفا سوچ کے باندھابھی آغاز محبت ہے گیا کچھ بھی نہیں

میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنےتو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلا کچھ بھی نہیں

اے شمارؔ آنکھیں اسی طرح بچھائے رکھناجانے کس وقت وہ آ جائے پتا کچھ بھی نہیں

— اختر شمار

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں