آزاد کی آواز میں
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05
«یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو