مقرر

آزاد

@awazdil090

30
پیش کردہ کلام
34
محفلوں میں شرکت
آزاد کی آواز میں

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو

کلام: ظفراقبال · محفل: مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال) · 2025-12-05

«یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو» ظفراقبال کا کلام ہے، جسے آزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)» میں 5 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو

کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 پوچھی تقصیر تو بولے کوئی تقصیر نہیں Poochhi taqseer to bole koi taqseer nahin مبارک عظیم آبادی
  2. 02 یاد ہے شیوۂ عشق ستم ایجاد مجھے Yaad hai shewa-e-ishq sitam iijaad mujhe کامل شطاری آواز میں دستیاب
  3. 03 صدمے گزرے ایذا گزری Sadme guzre eiza guzri رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  4. 04 ایویں ہن کچھ بول نہ دیویں Aivin hun kujh bol na devin پنجابی شعرا
  5. 05 سزا Saza باقر مہدی آواز میں دستیاب
  6. 06 میرے اندر ہی کہیں آیا تھا طوفان مرا Mere andar hi kahin aaya tha toofan mera شاہین عباس آواز میں دستیاب
  7. 07 پہنچ گیا وہ جب ہوس کے آخری مقام پر Puhanch gaya wo jab havas ke aakhri muqaam par راکب مختار آواز میں دستیاب
  8. 08 کسی کی کسی کو محبت نہیں ہے Kisi ki kisi ko mohabbat nahin hai پروین ام مشتاق آواز میں دستیاب