یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہو
کلام: ظفراقبال
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو
مسکراتے ہوئے ملتا ہوں کسی سے جو ظفر (ظفر اقبال)
مہمان شاعر: ظفراقبال
یہ بھی ممکن ہے کہ آنکھیں ہوں تماشا ہی نہ ہوراس آنے لگے ہم کو تو یہ دنیا ہی نہ ہو
کہیں نکلے کوئی اندازہ ہمارا بھی غلطجانتے ہیں اسے جیسا کہیں ویسا ہی نہ ہو
لہر کی طرح کنارے سے اچھل جانا ہےدیکھتے دیکھتے ہاتھوں سے نکل جانا ہے
دوپہر وہ ہے کہ ہوتی نظر آتی ہی نہیںدن ہمارا تو بہت پہلے ہی ڈھل جانا ہے