مقرر · کو ہوسٹ

امل خان

@bakhtawarkhan_0

135
پیش کردہ کلام
81
محفلوں میں شرکت
امل خان کی آواز میں

پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی

کلام: جاوید اختر · محفل: مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر · 2026-02-13

«پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگی» جاوید اختر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «مگر جو کھو گئی وہ چیز کیا تھی جاوید اختر» میں 13 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 2 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

پھرتے ہیں کب سے در بدر اب اس نگر اب اس نگر اک دوسرے کے ہم سفر میں اور مری آوارگینا آشنا ہر رہگزر نا مہرباں ہر اک نظر جائیں تو اب جائیں کدھر میں اور مری آوارگی

ہم بھی کبھی آباد تھے ایسے کہاں برباد تھے بے فکر تھے آزاد تھے مسرور تھے دل شاد تھےوہ چال ایسی چل گیا ہم بجھ گئے دل جل گیا نکلے جلا کے اپنا گھر میں اور مری آوارگی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں Kitab-e-zeest mein chahat ke baab the hi nahin تنویر دانش
  2. 02 یہ مناسب تو نہیں تھا کہ تماشا کرتے Yeh munasib toh nahin tha ke tamasha karte زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 وفاداری کی صورت میں جفا کاری کا نقشا تو Wafadari ki soorat mein jafa kaari ka naqsha tu مضطر خیرآبادی
  4. 04 طعنے Ta'ne اسماعیل راز
  5. 05 یہاں کیا ہے وہاں کیا ہے ادھر کیا ہے ادھر کیا ہے Yahan kya hai wahan kya hai idhar kya hai udhar kya hai مبارک عظیم آبادی
  6. 06 خوشا نصیب کہ ہے دل میں آرزو تیری Khusha naseeb ke hai dil mein aarzoo teri ناشاد کانپوری
  7. 07 ہم وصل میں ایسے کھوئے گئے فرقت کا زمانا بھول گئے Hum vasl mein aise khoye gaye furqat ka zamana bhool gaye کامل شطاری آواز میں دستیاب
  8. 08 گر تجھے روحِ رواں راحتِ جاں کہتے ہیں Gar tujhe rooh-e-rawaan rahat-e-jaan kehte hain رند لکھنوی