کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیں
کلام: تنویر دانش
کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیںکہ اس کتاب کے ہم انتساب تھے ہی نہیں
حیات پوچھ رہی تھی سوال ایسے بھیسوال ایسے کہ جن کے جواب تھے ہی نہیں
ایک شام جناب تنویر دانش صاحب کے نام
مہمان شاعر: تنویر دانش
کتابِ زیست میں چاہت کے باب تھے ہی نہیںکہ اس کتاب کے ہم انتساب تھے ہی نہیں
حیات پوچھ رہی تھی سوال ایسے بھیسوال ایسے کہ جن کے جواب تھے ہی نہیں