ملک کی آواز میں
میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں
کلام: بہزاد لکھنوی · محفل: یہ کفر بڑھتے بڑھتے ایمان ہو نہ جائے بہزاد لکھنوی · 2026-04-18
میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیںسب نے دی بانگِ محبت کوئی خاموش نہیں
میں تری مست نگاہی کا بھرم رکھ لوں گاہوش آیا بھی تو کہہ دوں گا مجھے ہوش نہیں