در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندر
کلام: اسماعیل راز
در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندراٹھ جاتا ہے آہٹ پہ بھی ماتم مرے اندر
گونجے ہیں ابھی تک کسی مقتول کی چیخیںقائم ہے ابھی خوف کا عالم مرے اندر
ساری حیرت کی حدیں توڑ کے رکھ دیں اس نے اسماعیل راز
مہمان شاعر: اسماعیل راز
در کھول کے مت جھانکنا ہمدم مرے اندراٹھ جاتا ہے آہٹ پہ بھی ماتم مرے اندر
گونجے ہیں ابھی تک کسی مقتول کی چیخیںقائم ہے ابھی خوف کا عالم مرے اندر