مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہے
کلام: زبیر قلزم
مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہےیعنی سارے جہان کا دکھ ہے
بارشوں کی خوشی ہے ایک طرفاپنے کچے مکان کا دکھ ہے
زبیر قلزم صاحب کے نام ایک شام
مہمان شاعر: زبیر قلزم
مجھ کو اپنے گمان کا دکھ ہےیعنی سارے جہان کا دکھ ہے
بارشوں کی خوشی ہے ایک طرفاپنے کچے مکان کا دکھ ہے
بزم جاناں میں جب اپنا جانا ہواکتا بتائیں تجھے کا تماشہ ہوا
دل مچلتا روکتا میں رہادل سے جھگڑا مرا بے تحاشہ