9 اشعار

میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیں

Main jo madhosh hua hoon jo mujhe hosh nahin

میں جو مدہوش ہوا ہوں جو مجھے ہوش نہیںسب نے دی بانگِ محبت کوئی خاموش نہیں

میں تری مست نگاہی کا بھرم رکھ لوں گاہوش آیا بھی تو کہہ دوں گا مجھے ہوش نہیں

تو نہیں ہے نہ سہی، کیف نہیں غم ہی سہییہ بھی کیا کم ہے کہ خالی مرا آغوش نہیں

رہ گیا ہوں ترے جلوؤں میں جو میں گم ہوکرہائے دنیا یہ سمجھتی ہے مجھے ہوش نہیں

درِ جاناں پہ مجھے کرنے دے سجدے زاہدہاں مجھے ہوش نہیں، ہوش نہیں ، ہوش نہیں

آگئے ہیں ترے جلوے جو مقابل میرےمیں تومیں ہوں، مری نظروں کو بھی کچھ ہوش نہیں

چاک دامن کو مرے دیکھ کے حیراں کیوں ہوہوش کی بات تو یہ ہے کہ مجھے ہوش نہیں

جانِ صدہوش تھی شاید کہ مری بےہوشیہوش آیا ہے تو کہتا ہوں مجھے ہوش نہیں

ہائے بہزاد یہ عالم نہ سمجھ میں آیااب مجھے ہوش جو آیا تو انہیں ہوش نہیں​

— بہزاد لکھنوی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں