مقرر

ایم سعید

@masayeed7

111
پیش کردہ کلام
95
محفلوں میں شرکت
ایم سعید کی آواز میں

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے

کلام: حفیظ جالندھری · محفل: ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری) · 2025-12-16

«ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے» حفیظ جالندھری کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)» میں 16 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے

تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کونکس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے Aab-o-dana tera ae bulbul-e-zaar uthta hai مبارک عظیم آبادی
  2. 02 آپ کی یاد عمر بھر آئی Aap ki yaad umar bhar aai ناشاد کانپوری
  3. 03 سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں Sukhanvarī kā bahāna banātā rahtā huuñ اسعد بدایونی آواز میں دستیاب
  4. 04 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے Khauf-e-khasara mujh ko na kal tha na aaj hai راکب مختار آواز میں دستیاب
  5. 05 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا Roshni phaili to sab ka rang kaala ho gaya آزاد گلاٹی آواز میں دستیاب
  6. 06 تم یاد مجھے آ جاتے ہو Tum yaad mujhe aa jaate ho بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں Andesha haye roz-e-mukafat aur main شبنم شکیل آواز میں دستیاب
  8. 08 آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے Aap se mil ke hum kuch badal se gaye, sher padhne lage gungunane lage جاوید اختر آواز میں دستیاب