مقرر

ایم سعید

@masayeed7

111
پیش کردہ کلام
95
محفلوں میں شرکت
ایم سعید کی آواز میں

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22

«سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوںترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں

میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سےجو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 آب و دانہ ترا اے بلبل زار اٹھتا ہے Aab-o-dana tera ae bulbul-e-zaar uthta hai مبارک عظیم آبادی
  2. 02 آپ کی یاد عمر بھر آئی Aap ki yaad umar bhar aai ناشاد کانپوری
  3. 04 خوف خسارہ مجھ کو نہ کل تھا نہ آج ہے Khauf-e-khasara mujh ko na kal tha na aaj hai راکب مختار آواز میں دستیاب
  4. 05 روشنی پھیلی تو سب کا رنگ کالا ہو گیا Roshni phaili to sab ka rang kaala ho gaya آزاد گلاٹی آواز میں دستیاب
  5. 06 تم یاد مجھے آ جاتے ہو Tum yaad mujhe aa jaate ho بہزاد لکھنوی آواز میں دستیاب
  6. 07 اندیشہ ہائے روز مکافات اور میں Andesha haye roz-e-mukafat aur main شبنم شکیل آواز میں دستیاب
  7. 08 آپ سے مل کے ہم کچھ بدل سے گئے شعر پڑھنے لگے گنگنانے لگے Aap se mil ke hum kuch badal se gaye, sher padhne lage gungunane lage جاوید اختر آواز میں دستیاب
  8. 09 دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے Dil ko maal-e-ishq se begana kijiye جواد شیخ آواز میں دستیاب