ایم سعید کی آواز میں
سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں
کلام: اسعد بدایونی · محفل: کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی · 2026-04-22
«سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔
سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوںترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں
میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سےجو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں