ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکے
کلام: حفیظ جالندھری
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے
تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کونکس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے
ارادےباندھتاہوں سوچتاہوں توڑدیتاہوں (حفیظ جالندھری)
مہمان شاعر: حفیظ جالندھری
ہم ہی میں تھی نہ کوئی بات یاد نہ تم کو آ سکےتم نے ہمیں بھلا دیا ہم نہ تمہیں بھلا سکے
تم ہی نہ سن سکے اگر قصۂ غم سنے گا کونکس کی زباں کھلے گی پھر ہم نہ اگر سنا سکے