ایم سعید کی آواز میں
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے
کلام: جواد شیخ · محفل: جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ · 2026-02-12
«کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتےجن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے
جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دےآپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے