8 اشعار

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

Kaisī āsūdgi jab talak mar nahīñ dekhte

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے

«کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتے» جواد شیخ کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ» میں 12 فروری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 57 سیکنڈ ہے۔

کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتےجن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے

جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دےآپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے

اور تو ایسی کوئی شکایت نہیں ہے مگرآپ میری جگہ خود کو رکھ کر نہیں دیکھتے

اور یہ اک طرح کا ہم ایسوں پہ احسان ہےدیکھنے والی شے لوگ اکثر نہیں دیکھتے

میں نہیں دیکھتا کیونکہ میری الگ بات ہےلوگ کس منہ سے اُس کو مکرّر نہیں دیکھتے

دیکھنا ، دیکھ سکنے کے باعث مرا فرض ہےاور پھر اِس لیے بھی کہ دیگر نہیں دیکھتے

فرض تھوڑی ہے بندے کو ہر بات کا علم ہوکیا بتائیں کہ ہم کیوں میسّر نہیں دیکھتے

ہم کو جواد سمجھانے والا بھی کوئی نہیںکچھ بھی کرتے ہوئے اپنی چادر نہیں دیکھتے

— جواد شیخ

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں