دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیے
کلام: جواد شیخ
دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیےپروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے
ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہےکس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے
جو کہیں کے نہیں رہتے وہ کہاں جاتے ہیں جواد شیخ
مہمان شاعر: جواد شیخ
دل کو مآل عشق سے بیگانہ کیجیےپروانہ کہہ رہا ہے کہ پروا نہ کیجیے
ہر خواب ناگزیر ہے ہر کام فرض ہےکس کس سے ہاتھ کھینچیے کیا کیا نہ کیجیے
کیسی آسودگی جب تلک مر نہیں دیکھتےجن کے پیش ِنظر عشق ہو ، سر نہیں دیکھتے
جیسے میں دیکھتا ہوں جو مجھ کو دکھائی نہ دےآپ کیوں اپنے من چاہے منظر نہیں دیکھتے