5 اشعار

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

Sukhanvarī kā bahāna banātā rahtā huuñ

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں

«سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں» اسعد بدایونی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی» میں 22 اپریل 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 38 سیکنڈ ہے۔

سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوںترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں

میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سےجو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں

پرانے گھر کی شکستہ چھتوں سے اکتا کرنئے مکان کا نقشہ بناتا رہتا ہوں

مرے وجود میں آباد ہیں کئی جنگلجہاں میں ہو کی صدائیں لگاتا رہتا ہوں

مرے خدا یہی مصروفیت بہت ہے مجھےترے چراغ جلاتا بجھاتا رہتا ہوں

— اسعد بدایونی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں