سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوں
کلام: اسعد بدایونی
سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوںترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں
میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سےجو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں
کچھ یہ غم خون بہاراں نہ ہوا تھا سو ہوا اسعد بدایونی
مہمان شاعر: اسعد بدایونی
سخن وری کا بہانہ بناتا رہتا ہوںترا فسانہ تجھی کو سناتا رہتا ہوں
میں اپنے آپ سے شرمندہ ہوں نہ دنیا سےجو دل میں آتا ہے ہونٹوں پہ لاتا رہتا ہوں