ایم سعید کی آواز میں
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
کلام: باقی صدیقی · محفل: ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی · 2026-01-25
«وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم
کاٹتے ہیں رات جانے کس طرحصبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم