وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم
کلام: باقی صدیقی
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم
کاٹتے ہیں رات جانے کس طرحصبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم
ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی
مہمان شاعر: باقی صدیقی
وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم
کاٹتے ہیں رات جانے کس طرحصبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم
اس کار گہ رنگ میں ہم تنگ نہیں کیاجو سر پہ لگا ہے ابھی وہ سنگ نہیں کیا
تصویر کو تصویر دکھائی نہیں جاتیاس آئنہ خانے میں نظر دنگ نہیں کیا
کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میںکہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
طرب آشنائے خروش ہو تو نوا ہے محرم گوش ہووہ سرود کیا کہ چھپا ہوا ہو سکوت پردۂ ساز میں