5 اشعار

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

Woh andhera hai jidhar jaate hain hum

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم

«وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہم» باقی صدیقی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «ہے بولنا بھی رسم جہاں بولتے رہو باقی صدیقی» میں 25 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 8 سیکنڈ ہے۔

وہ اندھیرا ہے جدھر جاتے ہیں ہماپنی دیواروں سے ٹکراتے ہیں ہم

کاٹتے ہیں رات جانے کس طرحصبح دم گھر سے نکل آتے ہیں ہم

بند کمرے میں سکوں ملنے لگاجب ہوا چلتی ہے گھبراتے ہیں ہم

ہائے وہ باتیں جو کہہ سکتے نہیںاور تنہائی میں دہراتے ہیں ہم

زندگی کی کشمکش باقیؔ نہ پوچھنیند جب آتی ہے سو جاتے ہیں ہم

— باقی صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں