مقرر

حسین بلوچ

@realHussain786

14
پیش کردہ کلام
37
محفلوں میں شرکت
حسین بلوچ کی آواز میں

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں

کلام: خواجہ میر درد · محفل: باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد) · 2025-12-11

«مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں

کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنیافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 ہم ان کو چھین کر لائے ہیں کتنے دعوے داروں سے Hum un ko chheen kar laaye hain kitne daawedaaron se کیف بھوپالی آواز میں دستیاب
  2. 02 دنیا میں کچھ اپنے ہیں کچھ بیگانے الفاظ Dunya mein kuchh apne hi hain kuchh begaane alfaaz کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  3. 03 مجھے نقل پر بھی اتنا اگر اختیار ہوتا Mujhe naql par bhi itna agar ikhtiyar hota کیف احمد صدیقی آواز میں دستیاب
  4. 04 دوستو بارگہہ قتل سجاتے جاؤ Dosto bargah-e-qatil sajate jao محسن بھوپالی آواز میں دستیاب
  5. 05 فلک نژاد سہی سرنگوں زمیں پہ تھا میں Falak nizaad sahi sar-nigoon zameen pe tha main انجم سلیمی آواز میں دستیاب
  6. 06 کس مست ادا سے آنکھ لڑی متوالا بنا لہرا کے گرا Kis mast adaa se aankh ladi, matwala bana lehra ke gira آرزو لکھنوی آواز میں دستیاب
  7. 07 قربت بڑھا بڑھا کر بے خود بنا رہے ہیں Qurbat baṛhā baṛhā kar be-khud banā rahe hain آرزو لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 ہم سر زلف قد حور شمائل ٹھہرا Hum sar zulf qadd-e-hoor shamaail thahra امیر مینائی آواز میں دستیاب