مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں
کلام: خواجہ میر درد
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنیافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں
باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)
مہمان شاعر: خواجہ میر درد
مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں
کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنیافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں