6 اشعار

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں

Muzhgan tar hooN ya rag-e-taak bureeda hooN

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں

«مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوں» خواجہ میر درد کا کلام ہے، جسے حسین بلوچ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «باغ جہاں کے گل ہیں یا خار ہیں تو ہم ہیں (خواجہ میردرد)» میں 11 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

مژگان تر ہوں یا رگ تاک بریدہ ہوںجو کچھ کہ ہوں سو ہوں غرض آفت رسیدہ ہوں

کھینچے ہے دور آپ کو میری فروتنیافتادہ ہوں پہ سایۂ قد کشیدہ ہوں

ہر شام مثل شام ہوں میں تیرہ روزگارہر صبح مثل صبح گریباں دریدہ ہوں

کرتی ہے بوئے گل تو مرے ساتھ اختلاطپر آہ میں تو موج نسیم دزیدہ ہوں

تو چاہتی ہے تو تپش دل کہ بعد مرگکنج مزار میں بھی نہ میں آرمیدہ ہوں

اے دردؔ جا چکا ہے مرا کام ضبط سےمیں غم زدہ تو قطرۂ اشک چکیدہ ہوں

— خواجہ میر درد

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں