شہزاد کی آواز میں
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میںتم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں
جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کرکس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں