7 اشعار

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

Roshni ban ke sitaron mein rawaan rehte hain

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں

«پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 12 سیکنڈ ہے۔

پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میںتم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں

جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کرکس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں

ہاں میں سایہ ہوں کسی شے کا مگر یہ بھی تو دیکھگر تعاقب میں نہ ہو سورج تو مر جاتا ہوں میں

ہاتھ آنکھوں سے اٹھا کر دیکھ مجھ سے کچھ نہ پوچھکیوں افق پر پھیلتی صبحوں سے ڈر جاتا ہوں میں

بس یوں ہی تنہا رہوں گا اس سفر میں عمر بھرجس طرف کوئی نہیں جاتا ادھر جاتا ہوں میں

خوف کی یہ انتہا صدیوں سے آنکھیں بند ہیںشوق کی یہ ابلہی بے بال و پر جاتا ہوں میں

عرشؔ رسموں کی پنہ گاہیں بھی اب سر پر نہیںاور وحشی راستوں پر بے سپر جاتا ہوں میں

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں