پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میں
کلام: عرش صدیقی
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میںتم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں
جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کرکس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
پھر ہنر مندوں کے گھر سے بے ہنر جاتا ہوں میںتم خبر بے زار ہو اہل نظر جاتا ہوں میں
جیب میں رکھ لی ہیں کیوں تم نے زبانیں کاٹ کرکس سے اب یہ اجنبی پوچھے کدھر جاتا ہوں میں
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سیجاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی
دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتاکیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی