شہزاد کی آواز میں
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی
کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21
«زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔
زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سیجاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی
دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتاکیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی