مقرر

شہزاد

@shah__zad987

40
پیش کردہ کلام
43
محفلوں میں شرکت
شہزاد کی آواز میں

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

کلام: عرش صدیقی · محفل: اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی · 2026-01-21

«زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سیجاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی

دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتاکیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی

مکمل کلام پڑھیں ‹

مزید پیش کردہ کلام

سب دیکھیں
  1. 01 زندگانی حسین ہے تو سہی Zindagani haseen hai to sahi زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  2. 02 عشق سر پہ سوار تھا یارو Ishq sar pe sawar tha yaaro زبیر قلزم آواز میں دستیاب
  3. 03 محبت غیر سے کی ہے تو میرا مدعا لے لو Mohabbat ghair se ki hai to mera muddaa le lo مضطر خیرآبادی آواز میں دستیاب
  4. 04 بیگانۂ وفا ترا شیوہ ہی اور ہے Begana-e-wafa tera shewa hi aur hai مبارک عظیم آبادی
  5. 05 اب تو وہ مائل جفا بھی نہیں Ab to woh maa'il-e-jafa bhi nahin ناشاد کانپوری
  6. 06 مری آرزو مرا مدعا کوئی اور اس کے سوا نہیں Meri aarzoo, mera muddaa koi aur us ke siwa nahin کامل شطاری آواز میں دستیاب
  7. 07 منہ نہ ڈھانکو اب تو صورت دیکھ لی Munh na dhaanko ab to soorat dekh li رند لکھنوی آواز میں دستیاب
  8. 08 تن دا ماس کھوائی رکھنا سوکھا نہیں Tan da maas khowayi rakhna sookha nahin پنجابی شعرا