9 اشعار

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

Zanjeer se uthti hai sada sehmi hui si

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی

«زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سی» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے شہزاد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 2 سیکنڈ ہے۔

زنجیر سے اٹھتی ہے صدا سہمی ہوئی سیجاری ہے ابھی گردش پا سہمی ہوئی سی

دل ٹوٹ تو جاتا ہے پہ گریہ نہیں کرتاکیا ڈر ہے کہ رہتی ہے وفا سہمی ہوئی سی

اٹھ جائے نظر بھول کے گر جانب افلاکہونٹوں سے نکلتی ہے دعا سہمی ہوئی سی

ہاں ہنس لو رفیقو کبھی دیکھی نہیں تم نےنمناک نگاہوں میں حیا سہمی ہوئی سی

تقصیر کوئی ہو تو سزا عمر کا رونامٹ جائیں وفا میں تو جزا سہمی ہوئی سی

ہاں ہم نے بھی پایا ہے صلہ اپنے ہنر کالفظوں کے لفافوں میں بقا سہمی ہوئی سی

ہر لقمے پہ کھٹکا ہے کہیں یہ بھی نہ چھن جائےمعدے میں اترتی ہے غذا سہمی ہوئی سی

اٹھتی تو ہے سو بار پہ مجھ تک نہیں آتیاس شہر میں چلتی ہے ہوا سہمی ہوئی سی

ہے عرشؔ وہاں آج محیط ایک خموشیجس راہ سے گزری تھی قضا سہمی ہوئی سی

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں