5 اشعار

عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میری

Ajab nahin kabhi naghma bane faghan meri

عجب نہیں کبھی نغمہ بنے فغاں میریمری بہار میں شامل ہے اب خزاں میری

میں اپنے آپ کو اوروں میں رکھ کے دیکھتا ہوںکہیں فریب نہ ہوں درد مندیاں میری

میں اپنی قوت اظہار کی تلاش میں ہوںوہ شوق ہے کہ سنبھلتی نہیں زباں میری

یہی سبب ہے کہ احوال دل نہیں کہتاکہوں تو اور الجھتی ہیں گتھیاں میری

میں اپنے عجز پہ نادم نہیں ہوں ہم سخنوہزار‌ شکر طبیعت نہیں رواں میری

— احمد مشتاق